ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہائی کو رٹ نے سابق وزرائے اعلی سے رہائش گاہ خالی کرنے کی مدت بتانے کو کہا

ہائی کو رٹ نے سابق وزرائے اعلی سے رہائش گاہ خالی کرنے کی مدت بتانے کو کہا

Sat, 01 Oct 2016 12:10:32    S.O. News Service

دہرادون،30؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے آج عہدے چھوڑنے کے باوجود سرکاری رہائش گاہوں پر سالوں سے قابض ریاست کے سابق وزرائے اعلی سے ان کو خالی کرنے کی میعاد بتانے کو کہا۔نینی تال میں واقع ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ایم جوزف اور جسٹس وی کے بشٹ کی بنچ نے یہاں کی ایک غیر سرکاری تنظیم ’رورل انلاٹنمنٹ اینڈ لٹیگیشن مرکز(رولک)کی طرف سے اس سلسلے میں دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سابق وزرائے اعلی سے 3 ؍اکتوبر تک یہ بتانے کو کہا کہ وہ کب تک سرکاری رہائش گاہوں کو خالی کر دیں گے۔درخواست گزار کے وکیل کارتی کین نے بتایا کہ سابق وزرائے اعلی کی طرف سے سرکاری رہائش گاہوں کو خالی کرنے کے لیے تیار ہونے کے سلسلے میں معلومات دیئے جانے کے بعد عدالت نے ان سے آئندہ پیر تک اپنی طرف سے اس کی میعاد بتانے کو کہا۔درخواست میں سابق وزرائے اعلی نارائن د ت تیواری، بھون چندر کھنڈوری، بھگت سنگھ کوشیاری، رمیش پوکھریال نشنک اور وجے بہوگنا سے سرکاری رہائش گاہ خالی کرانے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران تیواری کو چھوڑ کر دیگر سبھی سابق وزرائے اعلی کے وکیل موجود تھے، حالانکہ ریاستی حکومت کے وکیل کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ وہ بھی سرکاری رہائش گاہ چھوڑنے کو تیار ہیں۔عہدے سے ہٹنے کے سالوں بعد بھی لکھنؤ میں سالوں سے سرکاری بنگلوں پر قابض اترپردیش کے سابق وزرائے اعلی کو انہیں خالی کرنے کی سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد رولک کے صدر پدم شری اودھیش کوشل نے گزشتہ ماہ اتراکھنڈ ہائی کورٹ سے 2010میں دائر اسی طرح کی درخواست پر جلد سماعت کرنے کی درخواست کی تھی۔درخواست گزار کا کہنا ہے کہ جب ریاستی انسانی حقوق کمیشن جیسے آئینی ادارے کرایہ کی عمارتوں سے کام کر رہی ہوں تو سابق وزرائے اعلی کا عہدہ سے ہٹنے کے باوجود سالوں سے سرکاری رہائش گاہوں پر قبضہ برقرار رکھنا معقول نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ انسانی حقوق کمیشن کو اپنے دفتر کی عمارت کا 1.20لاکھ روپے ماہانہ کرایہ دینا پڑ رہا ہے۔


Share: